مولانا عامر رشادی کا بیان اور اے ایم یو: ذاکر حسین
گزشتہ دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں راشٹریہ علماء کونسل
کے قومی صدرکے بیان کے بعد جاری تنازعہ قوم پرست افراد کیلئےتشویش کا باعث ہے۔ہمارے خیال سے قوم کےافراد کو ایسے کسی بھی ایشوز پر اپنی توجہ مرکوز نہیں کرنی چاہیے جو قوم کے لئے مفید نہ ہو قوم کو بالخصوص قوم کے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری کاموں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔افسوس اس بات کا ہیکہ ہم یمشہ خواب غفلت کی آغوش میں قوم کی بربادی کے نظارے دیکھتے ہیں اور بیدار اس وقت ہوتے ہیں جب قوم کی انا،قوم کا تحفظ اورقوم کی عزت کسی قوم کے دشمن کی بھینٹ چڑھ چکی ہوتی ہے۔دراصل ہمارے بیدار ہونے کا وقت غلط ہوتا ہے،ہم اس وقت بیدار ہوتے ہیں جب قوم کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا رہاہو اور افسوس کہ ہم بھی قوم کے اتحاد کو انتشار میں تبدیل کرنے کی روش پر گامزن ہوتے ہیں۔اپنے غصے،اپنی بیداری اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت اس وقت پیش کرنا ہمارے لئے زیادہ بہتر اس وقت ہوتا جب سماجوادی پارٹی کی حکومت میں کشی نگر میں 56مسلم نوجوان لڑکیوں کا ہندوءوں نے اغوا کرکے ان کی عصمت سے کھلواڑ کیا۔ہمیں اس وقت بیدار ہونا چاہیے تھا جب کانگریس سرکار والی جے پور کی پولس نےجے پورکی جیل میں دہشت گردی کے الزام میں بند مسلم نوجوانوں پر تشدد کی حد پار کر دی۔ قوم کے لوگوں کو اس وقت بیداری کا ثبوت پیش کرنا چاہئے تھا جب دفعہ 341 پر کانگریس نے مذہبی پابندی لگا کر مسلمانوں کو ریزرویشن سے محروم کر دیا۔ہمیں اس وقت بیدا ہونا چاہئے تھا جب بٹلہ ہائوس انکائونٹر ہوا تھا اور مسلم نوجوانواں کو دہشتگردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کیا جا رہا تھا۔ہمیں اس وقت بیداری کا ثبوت پیش کرنا چاہیے تھا جب طارق قاسمی،خالد مجاہد،قتیل صدیقی اور ان جیسے انگنت مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں پھنسا کر جیلوں میت ڈال دیا گیا تھا۔آج جس طرح سے مولانا رشادی کے بیان پر قوم کے نوجوان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں اگر یہی نوجوان اے ایم یو میں منعقدہ پروگرام سے قبل بیدار ہوتے،قوم کے روشن مستقبل کی فکر کرتے تو ان کے پاس قوم کے اتحاد بالخصوص قوم کے سیاسی اتحاد کو عملی جامہ پہنانے کا بہت اچھا موقع تھا۔خیال رہے کہ پروگرام میں پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب،انڈین نیشنل لیگ کے قومی صدر پروفیسر محمدسلیمان،انڈین یونین مسلم لیگ کے پروفیسر بصیر احمد بھی شریک تھے۔قوم کے نوجوانوں کو چاہیے تھا کہ بیداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے مذکورہ اشخاص کو متحدہ سیاسی پلیٹ فارم پر آنے کی دعوت دیتے۔پروگرام میں دلتوں کے لیڈر اور بھیم آرمی کے چیف چندر شیکھرآزادبھی تھے۔قوم کے نوجوان ان سے بھی ملتے اور آئندہ انتخابات میں مسلم،دلت سیاسی اتحاد کی دعوت دیتے۔آج ہماری توانائی ایک بیان کو لیکر خرچ ہو رہی ہے اگرہم اسی توانائی کو قوم کے بھلے کیلئے خرچ کرتے تو قوم کے روشن مستقبل کا خواب شرمندء تعبیر ہو سکتا تھا۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی عدم برداشت،ایک دوسرے کے تئیں احترام،قوم کیلئے جدوجہد اور قربانیوں کی وجہ سےاپنی ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ہم اے ایم یو طلباء،علیگ براداری اور قوم کے افراد سے موئدبانہ درخواست کرتے ہیں کہ مولانا رشادی کے بیان کو طول دینے کے بجائے آج سے اور ابھی سے قوم کی بہتری کیلئے ہم سب اٹھ کھڑے ہوں۔
ذاکر حسین
الفلاح فرنٹ
ای میل:hussainzakir650@gmail.com

No comments:
Post a Comment