حقیقی انصاف ملنے تک 6 دسمبر 1992 کو بھلایا نہیں جاسکتا - ایڈووکیٹ طلحہ رشادی
راشٹریہ علماء کونسل نے منایا یوم سیاہ یوم دعا۔
اعظم گڑھ: آج 6 دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کی 28ویں برسی کے موقع پر راشٹریہ علماء کونسل نے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے اعظم گڑھ کے محمد پور میں پارٹی دفتر پر ایک نشست کا انعقاد کیا۔ میٹنگ کی صدارت پارٹی کے صوبائی صدر ٹھاکر انل سنگھ نے کی اور نظامت ضلع صدر حاجی شکیل احمد نے کی۔ اس موقع پر موجود پارٹی کے قومی ترجمان ایڈووکیٹ طلحہ رشادی نے کہا کہ 6 دسمبر 1992 کا دن ہندوستان کی تاریخ کا کالا دن ہے کہ جب دن دہاڑے ملک کے قانون، دستور و نظام کو بالائے طاق رکھ کر بابری مسجد کو فرقہ پرست طاقتوں نے اس وقت کی حکومت کے گٹھ جوڑ سے مل کر شہید کردیا۔ آج 28 سال گزر جانے کے بعد بھی متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا جبکہ اس حادثے کی انکوائری کرنے والے لبراہن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح کردیا تھا کی مسجد کو منصوبہ بند طریقے سے منہدم کیا گیا اور اس کے لئے ذمہ دار افراد کی کمیشن نے نشاندہی بھی کردی تھی۔ پر افسوس آج تک انصاف تو دور بلکہ زخموں پر نمک ہی چھڑکا گیا۔ اب تو عدالت سے بھی امید ختم ہو گئی۔ جہاں ایک طرف نام نہاد سیکولر جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنی حکومت میں ہی انصاف نہیں دلایا جب کہ وہ ہمیشہ مسلمانوں کے ہمدرد بنتے رہے تو موجودہ حکومت سے انصاف کی امید ہی بے معنی ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ مسجد ہماری شہید ہوئی انصاف بھی ہمیں نہ مل سکا اور اب اس معاملے پر آواز اٹھانے پر
بھی پابندی لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
راشٹریہ علماء کونسل کے صوبائی صدر ٹھاکر انل سنگھ نے کہا کہ ہم آج کا دن یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں اور ہم ملک کے انصاف پسند برادران وطن سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس دن کو کبھی نہ بھولے اور انصاف ملنے تک اس کے لیے آواز اٹھاتے رہیں۔ ملک کی جمہوریت اور اس کا دستور ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے اوپر ہوئے ظلم اور انصاف کے لیے آواز اٹھائیں۔ راشٹریہ علما کونسل اس آواز کو جمہوری طریقے سے اٹھاتی رہے گی۔ آج پورے صوبے میں کونسل کے کارکنان اپنے دفتروں پر یوم سیاہ اور یوم دعا کے طور پر اس دن کو یاد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر کونسل کے
تمام ضلع عہدیداران موجود رہے۔



No comments:
Post a Comment