ملک کے مسلمان،آرایس ایس اور ہندتوا:ذاکر حسین
ملک کے ہندو انتہا پسندی اور شدت پسندی کے طرف مائل ہیں۔یہ
حقیقت ہیکہ اس بار اکھیلیش یادو اور مایاوتی کی برادری بھی ہندتوا کے نام سے متاثر رہی۔ملک کے ہندوئوں کو انتہا پسندی،شدت پسندی اور ہندتوا کی طرف مائل کرنے کیلئے آر ایس ایس (قیام1925)نےمنظم طریقے سے ایک طویل جدوجہد کی ہے۔آر ایس ایس کا اینجنڈا وطن عزیز کو ہندو راشٹر بنانا ہے اور وہ اپنے اس مشن میں کامیابی کی دہلیز پر ہے۔
مسلمانوں کے زوال اور ہندتوا کے عروج کی سب سے بڑی وجہ انتشار و اتحاد ہے۔آر ایس ایس کی متعدد ذیلی تنظیمیں ہیں لیکن ہم نے کبھی بھی ان کے درمیان انتشار کے شعلے بلند ہوتے نہیں دیکھے اور مسلمان، ان کی ہر بات ہر موضوع کا آغاز ہی انتشار سے ہوتا ہے۔دراصل قوم کا ہر فرد خود کو ارسطو ثابت کرنے پر بضد ہے۔
الله قوم کے افراد کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دے۔
الیکشن سے قبل ہم جو باتیں کہہ رہے تھےاب پوری قوم وہی بات کہہ رہی ہے۔
ہم نے کہا اپنی قیادت کے ساتھ چلئے۔ضد پر آ گئے ۔نہیں بی جے پی کو ہرانا ہے۔میری قوم کے عزیز لوگو!بی جے پی کو ہم 1980سے شکست دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔بی جے پی کا خوف دلا کر کانگریس،ایس پی ،بی ایس پی وغیرہ مسلمانوں کے ووٹوں کی بدولت اقتدار تک پہنچیں اور ہر بار مسلمانوں کو فراموش کر دیا۔اگر آپ ناچیز کی باتوں سے اتفاق نہیں رکھتے تو ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیجیۓ۔ ہاشم پورا قتل عام،بٹلہ ہائوس انکائونٹر،دہشت گردی کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری اور دفعہ 341 کے علاوہ کانگریس نے مسلمانوں کو کیا دیا؟بی ایس پی نے بے گناہ طارق قاسمی اور خالد مجاہد کو گرفتار کروایا اور نمیش کمیشن کی رپورٹ اکھلیش یادو نے ٹھنڈے بستے میں ڈال دی۔بعد میں خالد مجاہد کا اکھلیش حکومت میں پولس حراست میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔رہائ منچ،راشٹریہ علماء کونسل،جمیتہ علماء ہند،جماعت اسلامی ہند اور اے پی سی آر کی لاکھ کوششوں کے بعد طارق قاسمی کو عمر قید کی سزا دے دی گئی۔
نوٹ:قوم کے افراد سے التجا ہیکہ قوم کی بھلائی کیلئے اپنی توانائی خرچ کریں۔ہر وقت الزان تراشی،انتشار اور آپس میں دست وگریباں کی ادائیں ایک مہذب قوم کو زیبا نہیں دیتیں۔اور ہاں یہ ای وی ایم کے ایشو کو نظر انداَ کریں اور ایمانداری سے قبول کریں کہ ہندتوا کے نام پر ہندو متحد ہو چکے ہیں۔صرف ہم اور ہماری قوم متحد نہیں ہو سکی ۔

No comments:
Post a Comment